وہ تجھ سے نئے چاندوں کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے وقت معلوم کرنے کے ذریعے ہیں اور نیکی ہر گز یہ نہیں کہ گھروں میں ان کی پچھلی طرفوں سے آئو اور بلکہ نیکی اس کی ہے جو بچے۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آئو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔
En
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے (احرام کی حالت میں) اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں، بلکہ نیکی واﻻ وه ہے جو متقی ہو۔ اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ
En
(آیت 189) ➊ {الْاَهِلَّةِ:} یہ { ”هِلاَلٌ“ } کی جمع ہے۔ پہلی اور دوسری رات کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے، پھر اسے ”قمر“ کہا جاتا ہے۔ (راغب) لوگوں نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت دریافت کی تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ چاند ہر ماہ ہلال کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، پھر وہ چودھویں کو پورا (بدر) ہو جاتا ہے۔ آخری رات بالکل غائب ہو جاتا ہے، پھر دوبارہ نئے چاند کی صورت میں نمودار ہو جاتا ہے، جس سے شہروں اور بستیوں کے علاوہ صحراؤں اور سمندروں میں رہنے والوں کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نیا مہینا شروع ہو گیا ہے اور وہ اس کی مختلف حالتوں سے تاریخ بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ جب کہ سورج ہمیشہ مکمل رہتا ہے، اس کے حساب سے وقت اور تاریخ معلوم کرنا دنیا کے ہر حصے میں رہنے والوں کے لیے ممکن نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدلنے والے چاندوں کو بطور کیلنڈر مقرر فرمایا، حج، کفارات اور معاملات، مثلاً طلاق اور وفات کی عدت چاند کے لحاظ ہی سے مقرر فرمائی۔ ہر ماہ طلوع ہونے والے چاندوں کے لحاظ سے { ”الْاَهِلَّةِ“ } جمع ذکر فرمایا۔ ➋ {وَلَيْسَالْبِرُّبِاَنْتَاْتُواالْبُيُوْتَمِنْظُهُوْرِهَا …:} حج کا ذکر آیا تو ایام حج میں جاہلیت کی ایک رسم کا رد فرمایا۔ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی، انصار جب حج کرتے، پھر (واپس) آتے تو اپنے گھروں کے دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے، اب انصار کا ایک آدمی(حج سے) آیا اور اپنے دروازے کی طرف سے داخل ہو گیا تو گویا اسے اس کی عار دلائی گئی تو یہ آیت اتری: «وَلَيْسَالْبِرُّبِاَنْتَاْتُواالْبُيُوْتَمِنْظُهُوْرِهَاوَلٰكِنَّالْبِرَّمَنِاتَّقٰىوَاْتُواالْبُيُوْتَمِنْاَبْوَابِهَا»[بخاری، العمرۃ، باب قول اللہ تعالٰی: «و أتوا البیوت من أبوابہا» : ۱۸۰۳] دوسری روایت میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں جب لوگ احرام باندھ لیتے تو گھروں کی پچھلی طرف سے گھر آتے، تو اس پر یہ آیت اتری۔ [بخاری، التفسیر، بابٌ: «ولیس البر بأن تأتوا البیوت …» : ۴۵۱۲] آیت میں دونوں کا رد ہے۔ ➌ {”وَلَيْسَالْبِرُّبِاَنْ“} اس میں { ”لَيْسَ“ } کی تاکید ”باء“ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”نیکی ہر گز یہ نہیں۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں