اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں میں بدلہ لینا لکھ دیا گیا ہے، آزاد (قاتل) کے بدلے وہی آزاد (قاتل) اور غلام (قاتل) کے بدلے وہی غلام (قاتل) اور (قاتلہ) عورت کے بدلے وہی (قاتلہ) عورت (قتل) ہوگی، پھر جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کر دیا جائے تو معروف طریقے سے پیچھا کرنا اور اچھے طریقے سے اس کے پاس پہنچا دینا (لازم) ہے۔ یہ تمھارے رب کی طرف سے ایک قسم کی آسانی اور ایک مہربانی ہے، پھر جو اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
En
مومنو! تم کو مقتولوں کے بارےمیں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت اور قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول) کو پسندیدہ طریق سے (قرار داد کی) پیروی (یعنی مطالبہٴ خون بہا) کرنا اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے
اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے درد ناک عذاب ہوگا
En
(آیت 178) ➊ {الْقَتْلٰى:} یہ { ”قَتِيْلٌ“ } کی جمع ہے، جو بمعنی مقتول ہے۔ اس آیت سے بظاہر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مرد، مرد ہی کو قتل کرنے کی صورت میں قتل کیا جائے گا، عورت کو قتل کر دے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح عورت، عورت ہی کو قتل کرنے کی صورت میں قتل کی جائے گی، مرد کو قتل کرنے کی صورت میں نہیں، مگر یہ معنی مراد نہیں، بلکہ یہاں اہل جاہلیت کے ایک ظلم کا خاتمہ مقصود ہے کہ اگر ان کے کمزور قبیلے کی کوئی عورت کسی طاقت ور قبیلے کے کسی مرد کو قتل کر دیتی تو وہ قتل کرنے والی عورت کے بجائے اس قبیلے کے کسی بے گناہ مرد یا متعدد مردوں کو قتل کر دیتے۔ اسی طرح کسی کمزور قبیلے کا کوئی غلام کسی زور آور قبیلے کے کسی آزاد آدمی کو قتل کر دیتا تو وہ اس قاتل غلام کی جگہ اس قبیلے کے کسی بے گناہ آزاد ہی کو قتل کرنے پر اصرار کرتے، تواللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قتل کرنے والے کے بدلے میں اسی قاتل ہی کو قتل کیا جائے، کسی دوسرے کو نہیں، قاتل خواہ آزاد ہے یا غلام، مرد ہے یا عورت۔ (خلاصہ از طبری) ➋ اگر کوئی مسلمان کسی کافر کو قتل کر دے تو قصاص میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا، بعض لوگوں نے کہا کہ کافر کو قتل کرنے کی صورت میں مسلمان کو قتل کر دیا جائے گا، مگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صریح فرمان کے خلاف ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [وَاَنْلاَّیُقْتَلَمُسْلِمٌبِکَافِرٍ]”اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“[بخاری، الدیات، باب لا یقتل المسلم بکافر: ۶۹۱۵] مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کو چوپاؤں کی مانند بلکہ ان سے بھی گمراہ تر قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف(۱۷۹)۔ ➌ {”مِنْاَخِيْهِ“} یہاں مقتول کے وارث کو قاتل کا بھائی قرار دینے میں ایک طرح کی سفارش ہے کہ بے شک قاتل نے تمھارے آدمی کو قتل کیا ہے مگر مسلمان ہونے کے ناتے تم اس کے بھائی ہو، تمھیں اسے کچھ نہ کچھ معافی دینی چاہیے۔ معافی کی دو صورتیں ہیں، ایک تویہ کہ صدقہ کرتے ہوئے دیت لیے بغیر معاف کر دیں۔ دوسری یہ کہ دیت لے لیں، پھر خواہ پوری لے لیں یا اس میں سے کچھ معاف کر دیں۔ اگر وہ معاف کرتے ہوئے قصاص کی جگہ دیت قبول کر لیں تو ان پر لازم ہے کہ دیت کا تقاضا اچھے طریقے سے کریں اور قاتل کے قبیلے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اچھے طریقے سے دیت ادا کر دیں۔ استطاعت ہوتے ہوئے دیت ادا نہ کرنا ظلم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [مَطْلُالْغَنِیِّظُلْمٌ]”غنی کا (کسی کا حق دینے میں) دیر کرنا ظلم ہے۔“[بخاری، الحوالات، باب الحوالۃ وہل یرجع فی الحوالۃ: ۲۲۸۷] ➍ {تَخْفِيْفٌمِّنْرَّبِّكُمْ:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص تھا دیت نہیں تھی، اب اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما کر دیت لینے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب «یأیہا الذین آمنوا …» : ۴۴۹۸] ➎ {فَمَنِاعْتَدٰىبَعْدَذٰلِكَ:} دیت لے کر بھی کوئی آدمی اگر قاتل کو قتل کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔