ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 177

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾
نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔ En
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں
En
ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 177) ➊ مسلمانوں کو جب پہلے بیت المقدس اور پھر کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہ بعض اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر شاق گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کے احکام کی فرماں برداری، جدھر وہ کہے ادھر رخ کرنا اور جو حکم وہ دے اس پر عمل کرنا ہے۔ یہ ہے اصل نیکی، تقویٰ اور کامل ایمان۔ رہا مشرق یا مغرب میں سے کسی طرف رخ کرنے کی پابندی، تو اس میں کوئی نیکی نہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے نہ ہو۔ (ابن کثیر)
➋ {وَ لٰكِنَّ الْبِرَّمَنْ اٰمَنَ:} اس میں { مَنْ } سے پہلے { بِرُّ } محذوف ہے، یعنی اصل نیکی اس شخص کی نیکی ہے۔
➌ یہ آیت نیکی کی تمام اقسام پر مشتمل ہے اور اس میں تمام بنیادی عقائد، اعمال اور اخلاق آ گئے ہیں۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اس آیت کو [کِتَابُ الْاِیْمَانِ] کے تحت [بَابُ اُمُوْرِ الْإِیْمَانِ] (قبل ح: ۹) میں ذکر فرمایا ہے کہ ایمان صرف عقائد کا نام نہیں، بلکہ اعمال بھی ایمان کا جز ہیں۔
➍ پہلے مال کی محبت کے باوجود اسے ذوی القربیٰ اور دوسرے مستحقین کو دینے کا ذکر فرمایا، بعد میں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا ذکر فرمایا۔ اس سے معلوم ہو اکہ مسلمان کے مال میں صرف زکوٰۃ ہی واجب نہیں کہ زکوٰۃ دینے کے بعد سارا سال بندہ فارغ ہو گیا، بلکہ ضرورت کے وقت مستحقین پر مال خرچ کرنا بھی واجب ہے، مثلاً ماں باپ اور دوسرے ضرورت مند رشتہ داروں کا نفقہ، مہمان پر خرچ، ضرورت مند ہمسائے، مجاہدین اور آیت میں مذکور دوسرے حضرات پر خرچ کرنا۔ ان کا ذکر زکوٰۃ سے پہلے اس لیے کیا کہ عام طور پر اس سے غفلت برتی جاتی ہے۔
➎ یتیم وہ ہے جس کا والد فوت ہو جائے اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [لاَ یُتْمَ بَعْدَ احْتِلاَمٍ] [أبوداوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم: ۲۸۷۳، عن علی رضی اللہ عنہ] بلوغت کے بعد یتیمی نہیں۔ باقی مستحقین کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۶۰)۔
➏ {وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ…:} یہ اور اس سے پہلے مذکور نیکی کرنے والوں سے متعلق سب صیغے ترکیب کی رو سے مرفوع ہیں، جب کہ { الصّٰبِرِيْنَ } کی حالت نصبی ہے، اس کی حکمت مفسرین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ مدح اور اختصاص کی بنا پر منصوب ہے، یعنی یہ { اَمْدَحُ } یا { اَخُصُّ } کا مفعول ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے اور خصوصاً جو تنگی میں۔ {الْبَاْسَآءِ} سے مراد فقر، بھوک، تنگ دستی، { الضَّرَّآءِ } سے مراد تکلیف، خصوصاً بیماری اور { اَلْبَأْسِ } سے مراد جنگ ہے۔ ان تینوں حالتوں میں صبر نہایت مشکل ہوتا ہے، اس لیے ان کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔