(آیت 169) ➊ { ”اَلسُّوْءُ“ } سے مراد کوئی بھی برائی ہے اور { ”اَلْفَحْشَاءُ“ } وہ برائی ہے جو حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً حد سے بڑھا ہوا بخل(بقرہ: ۲۶۸)، زنا (نور: ۱۹، ۲۱)، چوری، شراب اور قتل وغیرہ۔ ➋ یعنی شیاطین ایک طرف تو معاشرے میں اخلاقی خرابیوں { ”اَلسُّوْءُوَالْفَحْشَاءُ“ } کو فروغ دیتے ہیں اور دوسری طرف دین میں بدعات پیدا کرکے لوگوں کے عقائد و اعمال خراب کرتے ہیں۔ بغیر علم کے اللہ کے ذمے کوئی بات لگانے میں ہر وہ بات شامل ہے جو کتاب و سنت سے ثابت نہ ہو۔ مزید دیکھیے اعراف (۲۸، ۳۳)۔ پچھلی آیات کے لحاظ سے یہاں {”اَنْتَقُوْلُوْاعَلَىاللّٰهِ“} سے مراد اللہ کے لیے شریک بنانا، شیطان کے کہنے پر اللہ کے حلال کردہ کو حرام قرار دینا، مثلاً بحیرہ و سائبہ وغیرہ اور اس کے حرام کو حلال سمجھنا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز دینا، غرض اپنے پاس سے دین کی کوئی بھی بات بنا کر اللہ کے ذمے لگا دینا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔