ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 118

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ لَوۡ لَا یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ اَوۡ تَاۡتِیۡنَاۤ اٰیَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِہِمۡ ؕ تَشَابَہَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
اور ان لوگوں نے کہا جو نہیں جانتے ہم سے اللہ کلام کیوں نہیں کرتا؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ ایسے ہی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، ان کی بات جیسی بات کہی، ان کے دل ایک دوسرے جیسے ہوگئے ہیں۔ بے شک ہم نے ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں جو یقین کرتے ہیں۔ En
اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں
En
اسی طرح بے علم لوگوں نے بھی کہا کہ خود اللہ تعالیٰ ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ اسی طرح ایسی ہی بات ان کے اگلوں نے بھی کہی تھی، ان کے اور ان کے دل یکساں ہوگئے ہم نے تو یقین والوں کے لئے نشانیاں بیان کردیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 118) اس سے مراد کفارِ عرب ہیں جنھوں نے اپنے سے پہلے لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح یہ مطالبہ کیا۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۰ تا ۹۳)، فرقان (۲۱) اور سورۂ مدثر(۵۲) { تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ } یعنی ان سب کی سوچ ایک جیسی ہے اور فرمایا کہ قرآنِ کریم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدق واضح ہے، اگر یہ لوگ اہل یقین ہوتے تو یہی دلائل کافی تھے۔ (المنار)