ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 84

اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الۡاَرۡضِ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سَبَبًا ﴿ۙ۸۴﴾
بے شک ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا اور اسے ہر چیز میں سے کچھ سامان عطا کیا۔ En
ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا
En
ہم نے اسے زمین میں قوت عطا فرمائی تھی اور اسے ہر چیز کے سامان بھی عنایت کردیے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 84){ اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِي الْاَرْضِ …: مَكَّنَّا } سے مراد حکومت و اقتدار ہے۔ دیکھیے سورۂ حج (۴۱) ہر چیز میں سے کچھ سامان سے مراد وہ تمام وسائل ہیں جن کی اقتدار کے لیے ضرورت ہوتی ہے، مثلاً شجاعت، قوت، تدبیر و رائے، فوج، دولت، اسلحہ، سامان سفر، تعمیر و ترقی کے ذرائع وغیرہ۔ ان اسباب کی تفصیل میں بعض مفسرین کی اسرائیلی روایات پر مبنی عجیب و غریب روایات کی کچھ حیثیت نہیں اور نہ کسی صحیح حدیث میں ان کا پتا ملتا ہے۔