ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 76

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسۡتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِیُخۡرِجُوۡکَ مِنۡہَا وَ اِذًا لَّا یَلۡبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۷۶﴾
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے ضرور ہی اس سرزمین سے پھسلا دیں، تاکہ تجھے اس سے نکال دیں اور اس وقت وہ تیرے بعد نہیں ٹھہریں گے مگر کم ہی۔ En
اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلاوطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم
En
یہ تو آپ کے قدم اس سرزمین سے اکھاڑنے ہی لگے تھے کہ آپ کو اس سے نکال دیں۔ پھر یہ بھی آپ کے بعد بہت ہی کم ٹھہر پاتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76) ➊ {وَ اِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ …: اِسْتَفَزَّ } کا معنی کسی کو گھبراہٹ میں ڈال کر پھسلا دینا ہے۔ { الْاَرْضِ } میں الف لام عہد کا ہے، مراد ارض مکہ ہے، یعنی جب قریش کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو توحید سے روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو انھوں نے آپ کو سخت تنگ اور پریشان کرنا شروع کر دیا، تاکہ آپ گھبرا جائیں اور مکہ سے نکل جائیں۔
➋ { وَ اِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا:} چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے تو ڈیڑھ سال کے بعد ان کے بڑے بڑے سردار بدر میں مارے گئے، آپ کی بددعا سے اہل مکہ قحط اور خوف کا شکار ہو گئے، حتیٰ کہ آٹھ(۸) ہجری میں خود مکہ بھی فتح ہو گیا، جس سے ان کی شان و شوکت اور حکومت خاک میں مل گئی۔ ایک مغرور قوم کے لیے یہ عذاب ہی کیا کم ہے کہ وہی شخص جسے انھوں نے نکالا تھا، ان پر فتح پا کر شہر کا مالک بن جائے۔