ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ کَذَّبَ بِہَا الۡاَوَّلُوۡنَ ؕ وَ اٰتَیۡنَا ثَمُوۡدَ النَّاقَۃَ مُبۡصِرَۃً فَظَلَمُوۡا بِہَا ؕ وَ مَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخۡوِیۡفًا ﴿۵۹﴾
اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلا دیا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی واضح نشانی کے طور پر دی تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں دے کر نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لیے۔ En
اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو
En
ہمیں نشانات (معجزات) کے نازل کرنے سے روک صرف اسی کی ہے کہ اگلے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں۔ ہم نے ﺛمودیوں کو بطور بصیرت کے اونٹنی دی لیکن انہوں نے اس پر ﻇلم کیا ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59) ➊ {وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ پر، جو آخری امت ہے، اپنے خاص فضل اور رحمت کا ذکر فرمایا ہے۔ اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی چیزیں نشانی کے طور پر دکھانے کا مطالبہ کیا (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۰ تا ۹۳) مگر اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سنت رہی ہے کہ نشانی دکھانے کے بعد اگر کوئی قوم ایمان نہ لائے تو اسے عذاب کے ساتھ نیست و نابود کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ قوم ثمود کے مطالبے پر بطور نشانی اونٹنی دی گئی، انھوں نے اس پر ظلم کیا تو {صَيْحَةٌ} (چیخ) اور { رَجْفَةٌ } (زلزلے) سے تمام کفار ہلاک کر دیے گئے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی نشانی نہیں دی، تاکہ اس امت کے لیے ایمان لانے کی مہلت باقی رہے۔ اگر موجودہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی اولاد میں سے لوگ ایمان لا سکیں۔ ہماری امت کو عطا ہونے والی نشانی میں دو وصف ہیں، جو پہلے کسی نبی کی نشانی میں نہیں تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۵۰، ۵۱)۔
➋ { وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا:} یعنی عذاب سے ڈرانے کے لیے، کیونکہ اگر وہ نہیں ڈریں گے تو ان پر عذاب نازل ہو جائے گا۔