ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 49

وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۴۹﴾
اور انھوں نے کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم ضرور نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جانے والے ہیں۔ En
اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیوں اور چُور چُور ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہو کر اُٹھیں گے
En
انہوں نے کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور (مٹی ہو کر) ریزه ریزه ہوجائیں گے تو کیا ہم ازسرنو پیدا کر کے پھر دوباره اٹھا کر کھڑے کر دیئے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49){ وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا …: رُفَاتًا رَفَتَ يَرْفُتُ} (ن، ض) سے { فُتَاتًا } کی طرح ہے، وہ چیز جو ریزہ ریزہ کرکے مٹی کی طرح کر دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد قیامت پر کفار کے اعتراض کا ذکر کرکے اس کا جواب دیا۔