(آیت 49){ وَقَالُوْۤاءَاِذَاكُنَّاعِظَامًاوَّرُفَاتًا …: ”رُفَاتًا“”رَفَتَيَرْفُتُ“} (ن، ض) سے {”فُتَاتًا“} کی طرح ہے، وہ چیز جو ریزہ ریزہ کرکے مٹی کی طرح کر دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد قیامت پر کفار کے اعتراض کا ذکر کرکے اس کا جواب دیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔