ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 52

ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ وَ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿٪۵۲﴾
یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔ En
یہ قرآن لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں
En
یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے اطلاع نامہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے وه ہوشیار کر دیے جائیں اور بخوبی معلوم کرلیں کہ اللہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلمند لوگ سوچ سمجھ لیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت52){ هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ …:} اس آیت میں قرآن مجید نازل کرنے کے چار مقصد بیان ہوئے ہیں: 1 اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچ جائے۔ 2 اس کے ذریعے سے وہ آگاہ ہو جائیں اور ڈر جائیں۔ 3 لوگوں کو علم ہو جائے کہ عبادت صرف ایک اللہ کی کرنی ہے۔ 4 عقلوں والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ رازی نے فرمایا، معلوم ہوا کہ انسان میںعقل ہی اصل ہے، یہ نہ ہو تو وہ کبھی نصیحت حاصل نہیں کر سکتا۔