یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔
En
یہ قرآن لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں
یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے اطلاع نامہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے وه ہوشیار کر دیے جائیں اور بخوبی معلوم کرلیں کہ اللہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلمند لوگ سوچ سمجھ لیں
En
(آیت52){ هٰذَابَلٰغٌلِّلنَّاسِ …:} اس آیت میں قرآن مجید نازل کرنے کے چار مقصد بیان ہوئے ہیں: 1 اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچ جائے۔ 2 اس کے ذریعے سے وہ آگاہ ہو جائیں اور ڈر جائیں۔ 3 لوگوں کو علم ہو جائے کہ عبادت صرف ایک اللہ کی کرنی ہے۔ 4 عقلوں والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ رازی نے فرمایا، معلوم ہوا کہ انسان میںعقل ہی اصل ہے، یہ نہ ہو تو وہ کبھی نصیحت حاصل نہیں کر سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52۔ 1 یہ اشارہ قرآن کی طرف ہے، یا پچھلی تفصیلات کی طرف جو (وَلَاتَحْسَبَنَّاللّٰهَغَافِلًا) 14۔ ابراہیم:42) بیان کی گئی ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ یہ قرآن لوگوں تک پہچانے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعہ انھیں ڈرایا جائے اور اس لئے بھی کہ وہ جان لیں کہ اللہ صرف وہ ایک ہی ہے اور اس لئے بھی کہ دانشمند لوگ اس سے سبق [51] حاصل کریں
[51] نزول قرآن کے تین مقاصد:۔
یعنی قرآن کا پیغام ایسی چیز ہے جسے تمام لوگوں تک پہچانا ضروری ہے اور اس کے تین فائدے ہیں ایک یہ کہ لوگوں کو ان کے برے اعمال کے انجام سے بر وقت خبردار کیا جائے اور ڈرایا جائے۔ دوسرے یہ کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ان کے اعمال پر گرفت کرنے والی صرف ایک ہی ہستی ہے۔ لہٰذا ہر حال میں صرف اسی کی طرف رجوع کیا جائے، اس کی بندگی کی جائے اور اپنے نفع و نقصان کے وقت اسی کو پکارا جائے اور تیسرے یہ کہ اس قرآن میں مذکور آیات اور واقعات سے اہل دانش عبرت اور سبق حاصل کریں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تمام انسان اور جن پابند اطاعت ہیں ٭٭
ارشاد ہے کہ ’ یہ قرآن دنیا کی طرف اللہ کا کھلا پیغام ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کہلوایا گیا ہے کہ «لِأُنذِرَكُمبِهِوَمَنبَلَغَ»۱؎[6-الأنعام:19] یعنی ’ تاکہ میں اس قرآن سے تمہیں بھی ہوشیار کر دوں اور جسے جسے یہ پہنچے ‘، یعنی کل انسان اور تمام جنات۔ جیسے اس سورت کے شروع میں فرمایا کہ «الر كِتَابٌأَنزَلْنَاهُإِلَيْكَلِتُخْرِجَالنَّاسَمِنَالظُّلُمَاتِإِلَىالنُّورِ» الخ، ’ اس کتاب کو ہم نے ہی تیری طرف نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائے ‘ الخ۔ اس قرآن کریم کی غرض یہ ہے کہ لوگ ہوشیار کر دئے جائیں ڈرا دئے جائیں۔ اور اس کی دلیلیں حجتیں دیکھ سن کر پڑھ پڑھا کر تحقیق سے معلوم کر لیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور عقلمند لوگ نصیحت و عبرت وعظ و پند حاصل کر لیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔