اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
En
اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجود یہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے۔ اور ہم بعض میوؤں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں
اور زمین میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے لگتے لگاتے ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں، شاخ دار اور بعض ایسے ہیں جو بے شاخ ہیں سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں۔ پھر بھی ہم ایک کو ایک پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں اس میں عقل مندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
En
(آیت4) ➊ {وَفِيالْاَرْضِقِطَعٌمُّتَجٰوِرٰتٌ …: ”قِطَعٌ“”قِطْعَةٌ“} کی جمع ہے، بمعنی ٹکڑے۔{”مُتَجٰوِرٰتٌ“”جِوَارٌ“} (ہمسائیگی) سے باب تفاعل کا اسم فاعل ہے، یعنی ساری زمین ایک جیسی نہیں، کوئی ٹکڑا زرخیز زمین کا ہے کوئی شور کا، کوئی نرم زمین ہے کوئی پتھریلی اور یہ سب قطعے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں، اب اسی زمین میں کسی علاقے میں کوئی کھیتی اور پھل پیدا ہوتا ہے کسی میں کوئی، اور اسی میں انگوروں (اور دوسرے پھلوں) کے باغات ہیں (قرآن کا اختصار دیکھیے کہ صرف انگوروں کا ذکر کرکے باقی باغات سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ دیے) اور کھیتی ہے (اس میں ہر کھیتی آ گئی) اور کھجوروں کے درخت دو قسم کے ہیں ({”صِنْوَانٌ“”صِنْوٌ“} کی جمع ہے، تثنیہ بھی یہی ہے، اس کا اصل معنی مثل ہے، جیسے فرمایا: {”عَمُّالرَّجُلِصِنْوُأَبِيْهِ“} یعنی آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہے۔ کھجور کا تنا نیچے سے ایک ہو اور اوپر اس تنے سے کئی تنے نکلیں تو وہ {”صِنْوَانٌ“} ہے اور اگر یہ ایک ہی تنا رہے تو یہ {”غَيْرُصِنْوَانٍ“} ہے) اس قسم کے دوسرے درخت اس سے خود سمجھ لیں۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں، پھر اسی زمین اور اسی پانی سے کوئی پھل کڑوا پیدا ہو رہا ہے کوئی میٹھا، کوئی بدمزہ کوئی مزیدار اور کوئی اس سے بھی بڑھ کر لذت والا۔ پھر دیکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّاللّٰهَعَزَّوَجَلَّخَلَقَآدَمَمِنْقُبْضَةٍقَبَضَهَامِنْجَمِيْعِالْاَرْضِفَجَاءَبَنُوْآدَمَعَلٰيقَدْرِالْأَرْضِجَاءَمِنْهُمُالْأَبْيَضُوَالْأَحْمَرُوَالْأَسْوَدُوَبَيْنَذٰلِكَالْخَبِيْثُوَالطَّيِّبُوَالسَّهْلُوَالْحَزْنُوَبَيْنَذٰلِكَ][مسند أحمد: 400/4، ح: ۱۹۶۰۱۔ ترمذی: ۲۹۵۵۔ أبوداوٗد: ۴۶۹۳، و صححہ الألبانی]”آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے لیے پوری روئے زمین سے اللہ تعالیٰ نے ایک مٹھی لی (جس میں سفید، سیاہ، سرخ ہر رنگ اور نرم، سخت، شور، زرخیز ہر قسم کی مٹی آ گئی) اور آدم کی اولاد اسی کے مطابق کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی سیاہ، کوئی اس کے درمیان، کوئی خبیث، کوئی طیب اور کوئی نرم، کوئی سخت پیدا ہوتی ہے اور کوئی اس کے درمیان۔“ ایک ہی زمین، ایک ہی پانی، ایک ہی باپ اور اسی کے نطفے سے بے شماررنگا رنگ انسان پیدا ہوئے۔ ➋ { اِنَّفِيْذٰلِكَلَاٰيٰتٍلِّقَوْمٍيَّعْقِلُوْنَ:} معلوم ہوا کوئی کمال کاریگر اور پوری قدرت والا مدبر ہے جس کے کرنے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، قرآن نے ان دلائل کا ذکر مختلف مقامات پر کیا ہے۔ عقل سے کام لینے والوں کے لیے اس میں بے شمار نشانیاں ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کے لیے کوئی نشانی نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔