ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 18

لِلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمُ الۡحُسۡنٰی ؕؔ وَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَہٗ لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الۡحِسَابِ ۬ۙ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿٪۱۸﴾
جن لوگوں نے اپنے رب کی بات قبول کر لی انھی کے لیے بھلائی ہے اور جنھوں نے اس کی بات قبول نہ کی اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور ہو تو وہ ضرور اسے فدیہ میں دے دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا بچھونا ہے۔ En
جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے
En
جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی ان کے لئے بھلائی ہے اور جن لوگوں نے اس کی حکم برداری نہ کی اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو تو وه سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں۔ یہی ہیں جن کے لئے برا حساب ہے اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت18) ➊ { لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا …: الْحُسْنٰى اَلْاَحْسَنُ } کی مؤنث ہے، بمعنی سب سے اچھی، جیسے{ حَسَنٌ } اور {اَحْسَنُ } ہے، اسی طرح { حَسَنَةٌ } اور {حُسْنٰي} ہے، اس کا موصوف محذوف ہے، یعنی رب کی بات قبول کرنے والوں کے لیے سب سے اچھی جزا، یعنی جنت ہے۔ { وَ الَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ } مبتدا ہے اور{ لَوْ اَنَّ لَهُمْ } پورا جملہ شرطیہ اس کی خبر ہے، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حق سے عناد رکھتے ہیں قیامت کے دن ان پر جو مصیبت آئے گی وہ اس سے رہائی کے لیے اس قدر مال و دولت کی بھی پروا نہیں کریں گے اور فدیہ میں دینے کو تیار ہو جائیں گے۔
➋ { اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ:} یہ اس کے مقابلے میں ہے جو فرمایا تھا کہ اپنے رب کی بات قبول کرنے والوں کے لیے بھلائی (بہترین بدلہ) ہے، یعنی یہ دعوت قبول نہ کرنے والوں کا بہت برا حساب ہو گا، انھیں کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی اور ان کے ایک ایک گناہ پر بری طرح محاسبہ ہو گا۔ یہی مناقشہ فی الحساب ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَوَ لَيْسَ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی: «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [الإنشقاق: ۸] قَالَتْ، فَقَالَ إِنَّمَا ذٰلِكَ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِكْ] [بخاري، العلم، باب من سمع شیئًا فراجع …: ۱۰۳] جس کا حساب کیا گیا اسے عذاب دیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: «{ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا یعنی جسے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا گیا اس کا حساب آسان ہو گا (مطلب یہ ہے کہ یہاں حساب کے باوجود عذاب نہیں ہو گا تو اس کا مطلب کیا ہے)؟ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صرف پیش کیا جانا ہے اور لیکن جس سے مناقشہ ہوا (یعنی ایک ایک چیز کی پڑتال ہوئی) وہ ہلاک ہو جائے گا۔
➌ { وَ بِئْسَ الْمِهَادُ:} مہد اور مہاد اصل میں بچے کے لیے تیار کر دہ جگہ کو کہتے ہیں، گود ہو یا بچھونا، اسی طرح ہر اچھی طرح آرام کے لیے بنائی ہوئی جگہ کو مہاد کہتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ بچے کو آرام کے لیے آگ پر لٹا دیا جائے تو اس کا کیا حال ہو گا؟ اسی طرح اللہ کی دعوت قبول نہ کرنے والے کی آرام گاہ جہنم ہو گی۔ [نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْھَا]