(آیت 9) {وَلَىِٕنْاَذَقْنَاالْاِنْسَانَمِنَّارَحْمَةً …:} یعنی انسان میں یہ کمزوری ہے کہ کوئی رحمت صرف چکھنے کے بعد، یعنی تھوڑی سی نعمت صرف کچھ دیر کے لیے ملنے کے بعد چھن جائے تو اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتیں اس طرح بھولتا ہے کہ آئندہ کے لیے اس کی تمام نعمتوں سے نہایت ناامید ہو جاتا ہے اور گزشتہ اور موجودہ کوئی نعمت اسے یاد ہی نہیں رہتی۔ یہی اس کی ناشکری اور نعمت کا انکار ہے۔ شوکانی نے فرمایا کہ {”اَذَقْنَا“} کے لفظ سے ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت تھوڑی سی مدت کے لیے ملنا واضح ہو رہا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔