وَ لَئِنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً ثُمَّ نَزَعۡنٰہَا مِنۡہُ ۚ اِنَّہٗ لَیَـُٔوۡسٌ کَفُوۡرٌ ﴿۹﴾
اور یقینا اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھائیں، پھر اسے اس سے چھین لیں تو بے شک وہ یقینا نہایت نا امید، بے حد ناشکرا ہوتا ہے۔
En
اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا) ہے
En
اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا ذائقہ چکھا کر پھر اسے اس سے لے لیں تو وه بہت ہی ناامید اور بڑا ہی ناشکرا بن جاتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 9) {وَ لَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً …:} یعنی انسان میں یہ کمزوری ہے کہ کوئی رحمت صرف چکھنے کے بعد، یعنی تھوڑی سی نعمت صرف کچھ دیر کے لیے ملنے کے بعد چھن جائے تو اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتیں اس طرح بھولتا ہے کہ آئندہ کے لیے اس کی تمام نعمتوں سے نہایت ناامید ہو جاتا ہے اور گزشتہ اور موجودہ کوئی نعمت اسے یاد ہی نہیں رہتی۔ یہی اس کی ناشکری اور نعمت کا انکار ہے۔ شوکانی نے فرمایا کہ {” اَذَقْنَا “} کے لفظ سے ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت تھوڑی سی مدت کے لیے ملنا واضح ہو رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 انسانوں میں عام طور پر جو مذموم صفات پائی جاتی ہیں اس میں اور اگلی آیت میں ان کا بیان ہے۔ ناامیدی کا تعلق مستقبل سے ہے اور ناشکری کا ماضی و حال سے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ اگر ہم کسی انسان کو اپنی رحمت کا مزا چکھائیں پھر وہ اس سے چھین لیں تو وہ مایوس ہو کر ناشکری کرنے لگتا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
سوائے کامل ایمان والوں کے عموماً لوگوں میں جو برائیاں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ راحت کے بعد کی سختی پر مایوس اور محض نا اُمید ہو جاتے ہیں اللہ سے بدگمانی کر کے آئندہ کے لیے بھلائی کو بھول بیٹھتے ہیں گویا کہ نہ کبھی اس سے پہلے کوئی آرام اٹھایا تھا نہ اس کے بعد کسی راحت کی توقع ہے۔ یہی حال اس کے برخلاف بھی ہے اگر سختی کے بعد آسانی ہو گئی تو کہنے لگتے ہیں کہ بس اب برا وقت ٹل گیا۔ اپنی راحت اپنی تن آسانیوں پر مست و بےفکر ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ اکڑ میں پڑ جاتے ہیں اور آئندہ کی سختی کو بالکل فراموش کر دیتے ہیں۔ ہاں ایماندار اس بری خصلت سے محفوظ رہتے ہیں، وہ دکھ درد میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں راحت و آرام میں اللہ کی فرمان برداری کرتے ہیں۔ یہ صبر پر مغفرت اور نیکی پر ثواب پاتے ہیں ‘۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے کہ مومن کو کوئی سختی کوئی مصیبت کوئی دکھ، کوئی غم ایسا نہیں پہنچتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف نہ فرماتا ہو، یہاں تک کہ کانٹا لگنے پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6541]
بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ سراسر بہتر ہے۔ یہ راحت پاکر شکر کرتا ہے اور بھلائی سمیٹتا ہے۔ تکلیف اٹھا کر صبر کرتا ہے، نیکی پاتا ہے اور ایسا حال مومن کے سوا اور کسی کا نہیں ہو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]
اسی کا بیان سورۃ والعصر میں ہے، «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» [103-سورة العصر: 1-3] یعنی ’ عصر کے وقت کی قسم تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کریں اور ایک دوسرے کو دین حق کی اور صبر کی ہدایت کرتے رہیں ‘
یہی بیان آیت «إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُصَلِّينَ» ۱؎ [70-المعارج:19-22] میں ہے۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے کہ مومن کو کوئی سختی کوئی مصیبت کوئی دکھ، کوئی غم ایسا نہیں پہنچتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف نہ فرماتا ہو، یہاں تک کہ کانٹا لگنے پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6541]
بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ سراسر بہتر ہے۔ یہ راحت پاکر شکر کرتا ہے اور بھلائی سمیٹتا ہے۔ تکلیف اٹھا کر صبر کرتا ہے، نیکی پاتا ہے اور ایسا حال مومن کے سوا اور کسی کا نہیں ہو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]
اسی کا بیان سورۃ والعصر میں ہے، «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» [103-سورة العصر: 1-3] یعنی ’ عصر کے وقت کی قسم تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کریں اور ایک دوسرے کو دین حق کی اور صبر کی ہدایت کرتے رہیں ‘
یہی بیان آیت «إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُصَلِّينَ» ۱؎ [70-المعارج:19-22] میں ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔
اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے: ﴿ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ ﴾ ”دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے“ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن طبيعة الإنسان أنه جاهلٌ ظالمٌ: بأنَّ الله إذا أذاقه منه رحمةً كالصحة والرزق والأولاد ونحو ذلك، ثم نزعها منه؛ فإنَّه يستسلم لليأس وينقادُ للقنوط؛ فلا يرجو ثوابَ الله ولا يخطُرُ بباله أنَّ الله سيردُّها أو مثلها أو خيراً منها عليه، وأنَّه إذا أذاقه رحمةً من بعد ضرَّاء مسَّتْه، أنه يفرح ويَبْطَرُ ويظنُّ أنه سيدوم له ذلك الخير ويقول: {ذَهَبَ السيئاتُ عنِّي إنَّه لفرحٌ فخورٌ}؛ أي: يفرح بما أوتي مما يوافق هوى نفسه، فخورٌ بنعم الله على عباد الله، وذلك يحمله على الأشر والبطر والإعجاب بالنفس والتكبُّر على الخلق واحتقارهم وازدرائهم، وأيُّ عيبٍ أشدُّ من هذا؟!