ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ هود (11) — آیت 51

یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾
اے میری قوم! میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اس کے سوا کسی پر نہیں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے؟ En
میری قوم! میں اس (وعظ و نصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمّے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں؟
En
اے میری قوم! میں تم سے اس کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے تو کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) ➊ {يٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا …: فَطَرَ } کا اصل معنی پھاڑنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ [الانفطار: ۱] اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔ { فَطَرَنِيْ } سے مراد مجھے کسی گزشتہ نمونے کے بغیر پیدا فرمایا۔
➋ { اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ:} تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ جو شخص سچے دل سے دعوت وتبلیغ اور نصیحت کی مشقت اٹھا رہا ہے اور جسے صرف اپنے رب سے اجر لینا ہے، وہ تم سے کوئی اجرت یا دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا؟