(آیت 4) {تَرْمِيْهِمْبِحِجَارَةٍمِّنْسِجِّيْلٍ: ”سِجِّيْلٍ“} کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [هِيَسَنْكِوَكِلْ][بخاري، التفسیر، باب سورۃ: { ألم تر }، قبل ح: ۴۹۶۴]”اس سے مراد سنگ و گل ہے۔“ یعنی پکی ہوئی مٹی جسے کھنگر کہا جاتا ہے۔ لاوا اگلنے والے پہاڑوں کے ارد گرد اس قسم کے جلے ہوئے سخت سنگریزے عام ملتے ہیں۔