(آیت 4) {كَلَّالَيُنْۢبَذَنَّفِيالْحُطَمَةِ:”لَيُنْۢبَذَنَّ“”نَبَذَيَنْبِذُنَبْذًا“} (ض) (کسی چیز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پھینک دینا) سے واحد مذکر غائب مضارع مجہول بانون تاکید ثقیلہ ہے جو قسم کا مفہوم ادا کرتا ہے، یعنی یہ خیال ہر گز درست نہیں، بلکہ قسمیہ بات یہ ہے کہ اسے ہر حال میں اس دنیا سے جانا ہے۔ پھر اسے اس کے برے اعمال کی پاداش میں ”حطمہ“ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھینکنے کے لفظ سے اس کی تذلیل و تحقیر نمایاں ہو رہی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔