ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الهمزة (104) — آیت 4

کَلَّا لَیُنۡۢبَذَنَّ فِی الۡحُطَمَۃِ ۫﴿ۖ۴﴾
ہرگز نہیں، یقینا وہ ضرور حُطمہ میں پھینکا جائے گا۔ En
ہر گز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا
En
ہرگز نہیں یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ: لَيُنْۢبَذَنَّ نَبَذَ يَنْبِذُ نَبْذًا} (ض) (کسی چیز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پھینک دینا) سے واحد مذکر غائب مضارع مجہول بانون تاکید ثقیلہ ہے جو قسم کا مفہوم ادا کرتا ہے، یعنی یہ خیال ہر گز درست نہیں، بلکہ قسمیہ بات یہ ہے کہ اسے ہر حال میں اس دنیا سے جانا ہے۔ پھر اسے اس کے برے اعمال کی پاداش میں حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھینکنے کے لفظ سے اس کی تذلیل و تحقیر نمایاں ہو رہی ہے۔