ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يونس (10) — آیت 76

فَلَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡۤا اِنَّ ہٰذَا لَسِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۶﴾
تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے بے شک یہ تو کھلا جادو ہے۔ En
تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
En
پھر جب ان کو ہمارے پاس سے صحیح دلیل پہنچی تو وه لوگ کہنے لگے کہ یقیناً یہ صریح جادو ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76) {فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ …:} ہماری طرف سے حق اس حق کی عظمت کے بیان کے لیے ہے جو موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے۔ اس واضح حق کی تردید جب وہ کسی طرح نہ کر سکے تو اسے جادو کہہ دیا۔