(آیت 76) {فَلَمَّاجَآءَهُمُالْحَقُّ …:} ”ہماری طرف سے حق“ اس حق کی عظمت کے بیان کے لیے ہے جو موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے۔ اس واضح حق کی تردید جب وہ کسی طرح نہ کر سکے تو اسے جادو کہہ دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
76۔ 1 جب انکار کے لئے کوئی معقول دلیل نہیں ہوتی تو اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ گیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوابِهَاوَاسْتَيْقَنَتْهَاأَنفُسُهُمْظُلْمًاوَعُلُوًّافَانظُرْكَيْفَكَانَعَاقِبَةُالْمُفْسِدِينَ»۱؎[27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَدَابِرُالْقَوْمِالَّذِينَظَلَمُواوَالْحَمْدُلِلَّـهِرَبِّالْعَالَمِينَ»[6-الأنعام:45] ’ آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُلِلَّـه» ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَلَمَّاجَآءَهُمُالْحَقُّمِنْعِنْدِنَا ﴾”پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا“ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوْۤااِنَّهٰؔذَالَسِحْرٌمُّبِیْنٌ ﴾”اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے“ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلما جاءهم الحقُّ من عندنا}: الذي هو أكبر أنواع الحقِّ وأعظمُها، وهو من عند الله، الذي خضعت لعظمته الرقاب، وهو ربُّ العالمين المربِّي جميع خلقه بالنعم، فلما جاءهم الحقُّ من عند الله على يد موسى؛ ردُّوه فلم يقبلوه، و {قالوا إنَّ هذا لسحرٌ مبينٌ}: لم يكفهم قبحهم الله إعراضهم ولا ردُّهم إياه، حتى جعلوه أبطل الباطل، وهو السحر الذي حقيقته التمويه، بل جعلوه سحراً مبيناً ظاهراً، وهو الحقُّ المبين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔