(اعتراض کا) راستہ تو صرف ان لوگوں پر ہے جو تجھ سے اجازت مانگتے ہیں، حالانکہ وہ دولت مند ہیں، وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی، سو وہ نہیں جانتے۔
En
الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں
بیشک انہیں لوگوں پر راه الزام ہے جو باوجود دولتمند ہونے کے آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ یہ خانہ نشین عورتوں کا ساتھ دینے پر خوش ہیں اور ان کے دلوں پر مہر خداوندی لگ چکی ہے جس سے وه محض بے علم ہو گئے ہیں
En
93۔ 1 یہ منافقین ہیں جن کا تذکرہ آیت 86، 87 میں گزر ا۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر مخلص مسلمانوں کے مقابلے میں ہوا ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ خَوَالِفُ،خَالِفَۃ،ُ (پیچھے رہنے والے) مرد عورتیں، بچے معذور اور شدید بیمار اور بوڑھے ہیں جو جنگ میں شرکت سے معذور ہیں۔ لا یَعْلَمُوْنَ کا مطلب ہے وہ نہیں جانتے کہ پیچھے رہنا کتنا بڑا جرم ہے، ورنہ شاید وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہ رہتے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔