ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الفجر (89) — آیت 15

فَاَمَّا الۡاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکۡرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکۡرَمَنِ ﴿ؕ۱۵﴾
پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔ En
مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی
En
انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی جب کسی کو عزت و دولت کی فروانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ فروانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔