تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔
پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف]
پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن طبيعة الإنسان من حيث هو، وأنَّه جاهلٌ ظالمٌ لا علم له بالعواقب، يظنُّ الحالة التي تقع فيه تستمرُّ ولا تزول، ويظنُّ أنَّ إكرام الله في الدُّنيا وإنعامه عليه يدلُّ على كرامته [عنده] وقربِهِ منه، وأنَّه إذا {قَدَرَ عليه رِزْقَه}؛ أي: ضيَّقه، فصار بِقَدَرِ قوتِهِ لا يفضُلُ عنه؛ أنَّ هذا إهانةٌ من الله له، فردَّ الله عليه هذا الحسبان، فقال: {كلا}؛ أي: ليس كلُّ مَنْ نَعَّمْتُهُ في الدُّنيا فهو كريمٌ عليَّ، ولا كلُّ من قَدَرْتُ عليه رِزْقَه فهو مهانٌ لديَّ، وإنَّما الغِنى والفقر والسعة والضيق ابتلاءٌ من الله وامتحانٌ يمتحن به العباد؛ ليرى من يقوم له بالشكر والصبر، فيثيبه على ذلك الثواب الجزيل، ممَّن ليس كذلك، فينقله إلى العذاب الوبيل. وأيضاً؛ فإنَّ وقوف همَّة العبد عند مراد نفسه فقط من ضعف الهمَّة، ولهذا لامَهُمُ الله على عدم اهتمامهم بأحوال الخلق المحتاجين، فقال: {كلاَّ بل لا تكرِمون اليتيمَ}: الذي فقد أباه وكاسبه واحتاج إلى جبر خاطره والإحسان إليه؛ فأنتُم لا تكرِمونه بل تهينونه، وهذا يدلُّ على عدم الرحمة في قلوبكم وعدم الرغبة في الخير، {ولا تحاضُّون على طعام المسكين}؛ أي: لا يحضُّ بعضكم بعضاً على إطعام المحاويج من الفقراء والمساكين ، وذلك لأجل الشحِّ على الدنيا ومحبَّتها الشديدة المتمكَّنة من القلوب. ولهذا قال: {وتأكُلون التُّراثَ}؛ أي: المال المخلَّف، {أكلاً لَمًّا}؛ أي: ذريعاً، لا تبقون على شيء منه، {وتحبُّون المال حُبًّا جَمًّا}؛ أي: شديداً ، وهذا كقوله: {بل تؤثرون الحياةَ الدُّنيا والآخرةُ خيرٌ وأبقى}، {كلاَّ بل تحبُّونَ العاجِلَةَ وتَذَرون الآخرةَ}.