ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 99

اَفَاَمِنُوۡا مَکۡرَ اللّٰہِ ۚ فَلَا یَاۡمَنُ مَکۡرَ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿٪۹۹﴾
پھر کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بےفکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

99۔ 1 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ بیان فرمایا کہ ایمان وتقویٰ ایسی چیز ہے کہ جس بستی کے لوگ اسے اپنالیں تو ان پر اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے یعنی حسب ضرورت انہیں آسمان سے بارش مہیا فرماتا ہے اور زمین اس سے سیراب ہو کر خوب پیداوار دیتی جس سے خوش حالی و فروانی ان کا مقدر بن جاتی ہے لیکن اس کے برعکس تکذیب اور کفر کا راست اختیار کرنے پر قومیں اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہر جاتی ہیں، پھر پتہ نہیں ہوتا کہ شب و روز کی کس گھڑی میں عذاب آجائے اور ہنستی کھیلتی بستیوں کو آن واحد میں کھنڈرات بنا کر رکھ دیے اس لئے اللہ کی ان تدبیروں سے بےخوف نہیں ہونا چاہیئے۔ اس بےخوفی کا نتیجہ سوائے خسارے اور کچھ نیں۔ مَکْر، ُ کے مفہوم کی وضاحت کے لئے دیکھئے سورة آل عمران آیت، 54 کا حاشیہ۔