اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلائو اور اسے خوف اور طمع سے پکارو، بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔
اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے
اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے
56۔ 1 ان آیات میں چار چیزوں کی تلقین کی گئی ہے 1۔ اللہ تعالیٰ سے آہ زاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے، جس طرح کہ حدیث میں آتا ہے ' لوگو! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو (یعنی آواز پست رکھو) تم جس کو پکار رہے ہو، وہ بہرا نہ غائب، وہ تمہاری دعائیں سننے والا اور قریب ہے (صحیح بخاری) 2۔ دعا میں زیادتی نہ کی جائے یعنی اپنی حیثیت اور مرتبے سے بڑھ کر دعا نہ کی جائے۔ 3۔ اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلایا جائے یعنی اللہ کی نافرمانیاں کر کے فساد پھیلانے میں حصہ نہ لیا جائے۔ 4۔ اس کے عذاب کا ڈر بھی دل میں ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی ہو۔ اس طریقے سے دعا کرنے والے محسنین ہیں۔ یقینا اللہ کی رحمت ان کے قریب ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔