ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الملك (67) — آیت 23

قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۳﴾
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔ En
کہو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو
En
کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ 23۔ 2 یعنی کان آنکھیں اور دل بنائیں جن سے تم سن سکو اور اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کرکے اللہ کی معرفت حاصل کرسکو تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کرسکتا ہے یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی اسی لیے آگے فرمایا تم بہت ہی کم شکرگزاری کرتے ہو۔ 23۔ 2 یعنی شُکْرًا قَلِیْلًا یا زَمْنً قَلِیلًا یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔