ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الانعام (6) — آیت 104

قَدۡ جَآءَکُمۡ بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ فَمَنۡ اَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ عَمِیَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ ﴿۱۰۴﴾
بلا شبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے کئی نشانیاں آچکیں، پھر جس نے دیکھ لیا تو اس کی جان کے لیے ہے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے اور میں تم پر کوئی محافظ نہیں۔ En
(اے محمدﷺ! ان سے کہہ دو کہ) تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں
En
اب بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق بینی کے ذرائع پہنچ چکے ہیں سو جو شخص دیکھ لے گا وه اپنا فائده کرے گا اور جو شخص اندھا رہے گا وه اپنا نقصان کرے گا، اور میں تمہارا نگران نہیں ہوں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 بصائر بصیرۃ کی جمع ہے جو اصل میں دل کی روشنی کا نام ہے یہاں مراد وہ دلائل ہیں، جو قرآن نے جگہ جگہ اور بار بار بیان کئے ہیں اور جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی احادیث میں بیان فرمایا ہے جو ان دلائل کو دیکھ کر ہدایت کا راستہ اپنا لے گا اس میں اسی کا ائدہ ہے، نہیں اپنائے گا تو اسی کا نقصان ہے۔ جیسے فرمایا من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا بنی اسرائیل اس کا مطلب بھی وہی ہے جو زیر وضاحت آیت کا ہے 14۔ 2 بلکہ صرف مبلغ داعی اور بشیر و نذیر ہوں راہ دکھلانا میرا کام ہے راہ پر چلا دینا یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔