ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 14

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔ En
اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
En
اس نےانسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 صَلصَالٍ خشک مٹی جس میں آواز ہو۔ فَخَّار آگ میں پکی ہوئی مٹی، جسے ٹھیکری کہتے ہیں۔ انسان سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، جن کا پہلے مٹی کا پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ پھر حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے حوا کو پیدا فرمایا، اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی چلی۔