اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے اگر یہ کچھ بھی بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے اورجب انھوں نے اس سے ہدایت نہیں پائی تو ضرور کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔
En
اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے
اور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے
En
11۔ 1 کفار مکہ، حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب ؓ جیسے مسلمانوں کو، جو غریب و قلاش کے لوگ تھے لیکن اسلام قبول کرنے میں انہیں سب سے پہلے شرف حاصل ہوا، دیکھ کر کہتے کہ اگر اس دین میں بہتری ہوتی تو ہم جیسے ذی عزت و ذی مرتبہ لوگ سب سے پہلے اسے قبول کرتے نہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لاتے۔ یعنی اپنے طور پر انہوں نے اپنی بابت یہ فرض کرلیا کہ اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔ اس لیے اگر یہ دین بھی اللہ کی طرف سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے قبول کرنے میں پیچھے نہ چھوڑتا اور جب ہم نے اسے نہ اپنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک پرانا جھوٹ ہے یعنی قرآن کو انہوں نے پرانا جھوٹ قرار دیا ہے جیسے وہ اسے اساطیر الاولین بھی کہتے تھے حالانکہ دنیاوی مال ودولت میں ممتاز ہونا عند اللہ مقبولیت کی دلیل نہیں (جیسے ان کو مغالظہ ہوا یا شیطان نے مغالطے میں ڈالا) عند اللہ مقبولیت کے لیے تو ایمان و اخلاص کی ضرورت ہے اور اس دولت ایمان و اخلاص سے وہ جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ جیسے وہ مال ودولت آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔