ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الدخان (44) — آیت 32

وَ لَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انھیں علم کی بنا پر جہانوں سے چن لیا۔ En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو اہل عالم سے دانستہ منتخب کیا تھا
En
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 اس جہان سے مراد بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے کل جہان نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہان والوں پر فضیلت رکھتے تھے ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔