ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 58

وَ قَالُوۡۤاءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور انھوں نے کہا کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ انھوں نے تیرے لیے یہ (مثال) صرف جھگڑنے ہی کے لیے بیان کی ہے، بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں۔ En
اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ؟ انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو
En
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وه؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

58۔ 1 شرک کی تردید اور جھوٹے معبودوں کی بےوقعتی کی وضاحت کے لئے جب مشرکین مکہ سے کہا جاتا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم جائیں گے تو اس سے مراد وہ پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے نہ کہ وہ نیک لوگ جو اپنی زندگیوں میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے انہیں بھی معبود سمجھنا شروع کردیا ان کی بابت قرآن کریم نے ہی واضح کردیا ہے کہ یہ جہنم سے دور رہیں گے۔