اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے اورلیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے، جتنا چاہتا ہے، یقینا وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔
En
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے۔ لیکن وہ جو چیز چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وه زمین میں فساد برپا کردیتے لیکن وه اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ وه اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے واﻻ ہے
En
27۔ 1 یعنی اللہ ہر شخص کی حاجت و ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شرو فساد اور دشمنی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا، جس سے زمین فساد سے بھر جاتی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔