ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 47

اِلَیۡہِ یُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ؕ وَ مَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَکۡمَامِہَا وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ اَیۡنَ شُرَکَآءِیۡ ۙ قَالُوۡۤا اٰذَنّٰکَ ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَہِیۡدٍ ﴿ۚ۴۷﴾
اسی کی طرف قیامت کا علم لوٹا یا جاتا ہے اور کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہبچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ انھیں پکارے گا کہاں ہیں میرے شریک ؟وہ کہیں گے ہم نے تجھے صاف بتا دیا ہے، ہم میں سے کوئی (اس کی) شہادت دینے والا نہیں۔
قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گا بھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں
قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو ماده حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وه جنتی ہے سب کا علم اسے ہے اور جس دن اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وه جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواه نہیں

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47۔ 1 یعنی اللہ کے سوا اس کے وقوع کا علم کسی کو نہیں۔ اس لئے جب حضرت جبرائیل ؑ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ' اس کی بابت مجھے بھی اتنا علم ہے، جتنا تجھے ہے، میں تجھ سے زیادہ نہیں جانتا۔ دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا) 79۔ النازعات:44) 47۔ 2 یہ اللہ کے علم کا محیط کا بیان ہے اور اس کی صفت علم میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے یعنی اس طرح کا علم کامل کسی کو حاصل نہیں، حتیٰ کے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی نہیں انہیں بھی اتنا ہی علم ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے سے بتلا دیتا ہے۔ 47۔ 3 یعنی آج ہم میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے؟