اور اگر ہم ان پر فرض کر دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو، یا اپنے گھروں سے نکل جائو تو وہ ایسا نہ کرتے مگر ان میں سے تھوڑے اور اگر وہ واقعی اس پر عمل کرتے جو انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا ہوتا۔
En
اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کاربند ہوتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا
اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنی جانوں کو قتل کر ڈالو! یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ! تو اسے ان میں سے بہت ہی کم لوگ بجا ﻻتے اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور بہت زیاده مضبوطی واﻻ ہے
En
66۔ 1 آیت میں انہی نافرمان قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ کرکے کہا جا رہا ہے کہ اگر انہیں حکم دیا جاتا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو، جب یہ آسان باتوں پر عمل نہیں کرسکے تو اس پر عمل کس طرح کرسکتے تھے؟ یا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق ان کے بابت فرمایا جو یقینا واقعات کے مطابق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سخت حکموں پر تو یقینا مشکل ہے لیکن اللہ تعالیٰ بہت شفیق اور مہربان ہے اور اس کے احکامات بھی آسان ہیں۔ اس لیے اگر وہ ان حکموں پر چلیں جن کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور ثابت قدمی کا باعث ہو۔ کیونکہ ایمان اطاعت سے زیادہ اور معصیت سے کم ہوتا ہے نیکی سے نیکی کا راستہ کھلتا اور بدی سے بدی متولد ہوتی ہے یعنی اس کا راستہ کشادہ اور آسان ہوتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔