ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ النساء (4) — آیت 47

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّطۡمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰۤی اَدۡبَارِہَاۤ اَوۡ نَلۡعَنَہُمۡ کَمَا لَعَنَّاۤ اَصۡحٰبَ السَّبۡتِ ؕ وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ مَفۡعُوۡلًا ﴿۴۷﴾
اے لوگو جنھیں کتاب دی گئی ہے! اس پر ایمان لائو جو ہم نے نازل کیا ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمھارے پاس ہے، اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں، پھر انھیں ان کی پیٹھوں پر پھیر دیں، یا ان پر لعنت کریں، جس طرح ہم نے ہفتے کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم ہمیشہ (پورا) کیا ہوا ہے۔ En
اے کتاب والو! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا
En
اے اہل کتاب! جو کچھ ہم نے نازل فرمایا ہے جو اس کی بھی تصدیق کرنے واﻻ ہے جو تمہارے پاس ہے، اس پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ ہم چہرے بگاڑ دیں اور انہیں لوٹا کر پیٹھ کی طرف کر دیں، یا ان پر لعنت بھیجیں جیسے ہم نے ہفتے کے دن والوں پر لعنت کی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کام کیا گیا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47۔ 1 یعنی اگر اللہ چاہے تو تمہیں تمہارے کرتوتوں کی پاداش میں یہ سزا دے سکتا ہے۔ 47۔ 2 یہ قصہ سورة اعراف میں آئے گا، کچھ اشارہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ یعنی تم بھی ان کی طرح ملعون قرار پاسکتے ہو۔ 47۔ 3 یعنی جب وہ کسی بات کا حکم کر دے تو نہ کوئی اس کی مخالفت کرسکتا ہے اور نہ اسے روک ہی سکتا ہے۔