ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ النساء (4) — آیت 104

وَ لَا تَہِنُوۡا فِی ابۡتِغَآءِ الۡقَوۡمِ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ یَاۡلَمُوۡنَ کَمَا تَاۡلَمُوۡنَ ۚ وَ تَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرۡجُوۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۰۴﴾٪
اور اس قوم کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو یقینا وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، جیسے تم تکلیف اٹھاتے ہو اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ امید نہیں رکھتے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور کفار کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا اور (بڑی) حکمت والا ہے
En
ان لوگوں کا پیچھا کرنے سے ہارے دل ہو کر بیٹھ نہ رہو! اگر تمہیں بے آرامی ہوتی ہے تو انہیں بھی تمہاری طرح بے آرامی ہوتی ہے اور تم اللہ تعالیٰ سے وه امیدیں رکھتے ہو، جو امیدیں انہیں نہیں، اور اللہ تعالیٰ دانا اور حکیم ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 یعنی اپنے دشمن کے تعاقب کرنے میں کمزوری مت دکھاؤ بلکہ ان کے خلاف بھرپور جہدوجہد کرو اور گھات لگا کر بیٹھو۔ 14۔ 2 یعنی زخم تو تمہیں بھی اور انہیں بھی دونوں کو پہنچے ہیں لیکن ان زخموں پر تمہیں تو اللہ سے اجر کی امید ہے۔ لیکن وہ اس کی امید نہیں رکھتے۔ اس لئے اجر آخرت کے حصول کے لئے جو محنت و کاوش تم کرسکتے ہو وہ کافر نہیں کرسکتے۔