اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کر لو، اگر ڈرو کہ تمھیں وہ لوگ فتنے میں ڈال دیں گے جنھوں نے کفر کیا۔ بے شک کافر لوگ ہمیشہ سے تمھارے کھلے دشمن ہیں۔
En
اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں
11۔ 1 اس حالت میں سفر میں نماز قصر کرنے (دوگانہ ادا کرنے) کی اجازت دی جا رہی ہے، ان خفتم۔ " اگر تمہیں ڈر ہو۔ " غالب احوال کے اعتبار سے ہے۔ کیونکہ اس وقت پورا عرب دارالحرب بنا ہوا تھا۔ کسی طرف بھی خطرات سے خالی نہیں تھا۔ یعنی یہ شرط نہیں ہے کہ سفر میں خوف ہو تو قصر کی اجازت ہے جیسے قرآن مجید میں اور بھی مقامات پر اس قسم کی قیدیں بیان کی گئی ہیں جو اتفاقی یعنی غالب احوال کے اعتبار سے (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَاٰمَنُوْالَاتَاْكُلُواالرِّبٰٓوااَضْعَافًامُّضٰعَفَةً) 3:130 (وَلَاتُكْرِهُوْافَتَيٰتِكُمْعَلَيالْبِغَاۗءِاِنْاَرَدْنَتَحَصُّنًالِّتَبْتَغُوْاعَرَضَالْحَيٰوةِالدُّنْيَا) 24:33 تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ اس سے بچنا چاہیں۔ " چونکہ بچنا چاہتی تھیں، اس لئے اللہ نے اسے بیان فرما دیا۔ یہ نہیں کہ اگر وہ بدکاری پر آمادہ ہوں تو پھر تمہارے لئے یہ جائز ہے کہ تم ان سے بدکاری کروا لیا کرو (وَرَبَاۗىِٕبُكُمُالّٰتِيْفِيْحُجُوْرِكُمْمِّنْنِّسَاۗىِٕكُمُ) 4:23 بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم کے ذہن میں بھی یہ اشکال آیا کہ اب تو امن ہے ہمیں سفر میں نماز قصر نہیں کرنی چاہئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لئے صدقہ ہے اس کے صدقے کو قبول کرو۔ " (مسند أحمد جلد 1، ص 25، 36 وصحیح مسلم، کتاب المسافرین اور دیگر کتب حدیث)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔