ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ فاطر (35) — آیت 15

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۱۵﴾
اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ En
لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد وثنا) ہے
En
اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بےنیاز خوبیوں واﻻ ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 ناس کا لفظ عام ہے جس میں عوام وخاص حتی کہ انبیاء وصلحا سب آجاتے ہیں اللہ کے در کے سب ہی محتاج ہیں لیکن اللہ کسی کا محتاج نہیں۔ 15۔ 2 وہ اتنا بےنیاز ہے کہ اگر سب لوگ اس کے مخالف ہوجائیں اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی اور سب اس کے اطاعت گزار بن جائیں، تو اس سے اس کی قوت میں زیادتی نہ ہوگی بلکہ نافرمانی میں لوگوں کا اپنا ہی نقصان ہے۔ اور عبادت واطاعت میں اپنا ہی فائدہ ہے۔ 15۔ 3 یعنی محمود ہے اپنی نعمتوں کی وجہ سے۔ پس ہر نعمت، جو اس نے بندوں پر کی ہے، اس پر وہ حمد و شکر کا مستحق ہے۔