ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ سبأ (34) — آیت 46

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُکُمۡ بِوَاحِدَۃٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰہِ مَثۡنٰی وَ فُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوۡا ۟ مَا بِصَاحِبِکُمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ لَّکُمۡ بَیۡنَ یَدَیۡ عَذَابٍ شَدِیۡدٍ ﴿۴۶﴾
کہہ دے میں تو تمھیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک کر کے کھڑے ہو جائو، پھر خوب غور کرو کہ تمھارے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے۔ وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے محض تمھیں ڈرانے والا ہی ہے۔ En
کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں
En
کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 یعنی میں تمہیں تمہارے موجودہ طرز عمل سے ڈراتا اور ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم ضد، اور انانیت چھوڑ کر صرف اللہ کے لئے ایک ایک دو دو ہو کر میری بابت سوچو کہ میری زندگی تمہارے اندر گزری ہے اور اب بھی جو دعوت میں تمہیں دے رہا ہوں کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے اس بات کی نشان دہی ہو کہ میرے اندر دیوانگی ہے؟ تم اگر عصبیت اور خواہش نفس سے بالا ہو کر سوچو گے تو یقینا سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے رفیق کے اندر کوئی دیوانگی نہیں ہے۔ 46۔ 2 یعنی وہ تو صرف تمہاری ہدایت کے لئے آیا ہے تاکہ تم اس عذاب شدید سے بچ جاؤ جو ہدایت کا راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھ کر فرمایا ' یا صباحاہ ' جسے سن کر قریش جمع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن صبح یا شام کو تم پر حملہ آور ہونے والا ہے، تو کیا میری تصدیق کرو گے، انہوں نے کہا، کیوں نہیں ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' تو پھر سن لو کہ میں تمہیں سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں۔ ' یہ سن کہ ابو لہب نے کہا ' تَبَّالکَ! اَلِھٰذا جَمَعْتَنَا ' تیرے لئے ہلاکت ہو، کیا اس لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ْ جس پر اللہ تعالیٰ نے سورة تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ نازل فرمائی (صحیح بخاری)