اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو اچانک وہ نا امید ہو جاتے ہیں۔
En
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزه چکھاتے ہیں تو وه خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وه محض ناامید ہو جاتے ہیں
En
36-1یہ وہی مضمون ہے جو سورة ہود میں گزرا اور جو انسانوں کی اکثریت کا شیوہ ہے کہ راحت میں وہ خوش ہوتے ہیں اور مصیبت میں ناامید ہوجاتے ہیں۔ اہل ایمان اس سے مستشنٰی ہیں۔ وہ تکلیف میں صبر اور راحت میں اللہ کا شکر یعنی عمل صالح کرتے ہیں۔ یوں دونوں حالتیں ان کے لئے خیر اور اجر وثواب کا باعث بنتی ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔