196۔ 1 خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن مخاطب پوری امت ہے، شہروں میں چلنے پھرنے سے مراد تجارت اور کاروبار کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک ملک سے دوسرے ملک جانا ہے، یہ تجارتی سفر وسائل دنیا کی فراوانی اور کاروبار کے وسعت و فروغ کی دلیل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ سب کچھ عارضی اور چند روزہ فائدہ ہے، اس سے اہل ایمان کو دھوکا میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اصل انجام پر نظر رکھنی چاہئے، جو ایمان میں محرومی کی صورت میں جہنم کا دائمی عذاب ہے جس میں دولت دنیا سے مالا مال یہ کافر مبتلا ہونگے۔ یہ مضمون بھی متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلا (مَايُجَادِلُفِيْٓاٰيٰتِاللّٰهِاِلَّاالَّذِيْنَكَفَرُوْافَلَايَغْرُرْكَتَــقَلُّبُهُمْفِيالْبِلَادِ) 40:4 اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں، پس ان کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ " (قُلْاِنَّالَّذِيْنَيَفْتَرُوْنَعَلَياللّٰهِالْكَذِبَلَايُفْلِحُوْنَ 69 مَتَاعٌفِيالدُّنْيَاثُمَّاِلَيْنَامَرْجِعُھُمْثُمَّنُذِيْقُھُمُالْعَذَابالشَّدِيْدَبِمَاكَانُوْايَكْفُرُوْنَ 70) 10:69، 70 (نُمَـتِّعُهُمْقَلِيْلًاثُمَّنَضْطَرُّهُمْاِلٰىعَذَابٍغَلِيْظٍ 24) 31:24
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔