ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ القصص (28) — آیت 85

اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡہُدٰی وَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۸۵﴾
بے شک جس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیا ہے وہ ضرور تجھے ایک عظیم الشان لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لانے والا ہے۔ کہہ میرا رب اسے زیادہ جاننے والا ہے جو ہدایت لے کر آیا اور اسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے۔ En
(اے پیغمبر) جس (خدا) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے وہ تمہیں بازگشت کی جگہ لوٹا دے گا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت لےکر آیا اور (اس کو بھی) جو صریح گمراہی میں ہے
En
جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے وه آپ کو دوباره پہلی جگہ ﻻنے واﻻ ہے، کہہ دیجئے! کہ میرا رب اسے بھی بخوبی جانتا ہے جو ہدایت ﻻیا ہے اور اسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

85-1یا اس کی تلاوت اور اس کی تبلیغ و دعوت آپ پر فرض کی ہے۔ 85-2یعنی آپ کے مولد مکہ، جہاں سے آپ نکلنے پر مجبور کردیئے گئے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح بخاری میں اس کی یہی تفسیر نقل ہوئی ہے۔ چناچہ ہجرت کے آٹھ سال بعد اللہ کا یہ وعدہ پورا ہوگیا اور آپ-8ہجری میں فاتحانہ طور پر مکہ میں دوبارہ تشریف لے گئے۔ بعض نے معاد سے مراد قیامت لی ہے۔ یعنی قیامت والے دن آپ کو اپنی طرف لوٹائے گا اور تبلیغ رسالت کے بارے میں پوچھے گا۔ 85-3یہ مشرکین کے اس جواب میں ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے آبائی اور روایتی مذہب سی انحراف کی بنا پر گمراہ سمجھتے تھے۔ فرمایا، میرا رب خوب جانتا ہے کہ گمراہ میں ہوں، جو اللہ کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہوں یا تم ہو، جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو قبول نہیں کر رہے ہو؟