تو ہم نے اسے اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
En
تو ہم نے (اس طریق سے) اُن کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے
پس ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس پہنچایا، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور آزرده خاطر نہ ہو اور جان لے کہ اللہ تعالی کا وعده سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
En
13-1جب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی والدہ کا دودھ پی لیا، تو فرعون نے والدہ موسیٰ سے محل میں رہنے کی استداعا کی تاکہ بچے کو صحیح پرورش اور نہگداشت ہو سکے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں اپنے خاوند اور بچوں کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی۔ بالآخر یہ طے پایا کہ بچے کو وہ اپنے ساتھ ہی گھر میں لے جائیں اور وہیں اس کی پرورش کریں اور اس کی اجرت انھیں شاہی خزانے سے دی جائے گی، سبحان اللہ! اللہ کی قدرت کے کیا کہنے، دودھ اپنے بچے کو پلائیں اور تنخواہ فرعون سے وصول کریں، رب نے موسیٰ ؑ کو واپس لوٹانے کا وعدہ کس احسن طریقے سے پورا فرمایا۔ ایک مرسل روایت میں ہے۔ اس کاریگر کی مثال جو اپنی بنائی ہوئی چیز میں ثواب اور خیر کی نیت بھی رکھتا ہے، موسیٰ ؑ کی ماں کی طرح ہے جو اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اس کی اجرت بھی وصول کرتی ہے۔ (مراسیل ابی داؤد) 13-3یعنی بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے انجام کی حقیقت سے اکثر لوگ بےعلم ہوتے ہیں لیکن اللہ کو اس کے حسن انجام کا علم ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا (ہو سکتا ہے جس چیز کو تم برا سمجھو، اس میں تمہارے لئے خیر ہو اور جس چیز کو تم پسند کرو، اس میں تمہارے لئے شر کا پہلو ہو) (كُتِبَعَلَيْكُمُالْقِتَالُوَھُوَكُرْهٌلَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓىاَنْتَكْرَھُوْاشَـيْـــًٔـاوَّھُوَخَيْرٌلَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓىاَنْتُحِبُّوْاشَـيْـــــًٔـاوَّھُوَشَرٌّلَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُيَعْلَمُوَاَنْتُمْلَاتَعْلَمُوْنَ) 2۔ البقرۃ:216) دوسرے مقام پر فرمایا (ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو برا سمجھو، اور اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر پیدا فرما دے) (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَاٰمَنُوْالَايَحِلُّلَكُمْاَنْتَرِثُواالنِّسَاۗءَكَرْهًاۭوَلَاتَعْضُلُوْھُنَّلِتَذْهَبُوْابِبَعْضِمَآاٰتَيْتُمُوْھُنَّاِلَّآاَنْيَّاْتِيْنَبِفَاحِشَةٍمُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّبالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْكَرِھْتُمُوْھُنَّفَعَسٰٓىاَنْتَكْرَهُوْاشَـيْـــــًٔـاوَّيَجْعَلَاللّٰهُفِيْهِخَيْرًاكَثِيْرًا) 4۔ النساء:19) اس لئے انسان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنی پسند و ناپسند سے قطع نظر ہر معاملے میں اللہ اور رسول کے احکام کی پابندی کرلے کہ اسی میں اس کے لئے خیر اور حسن انجام ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔