ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 16

لَہُمۡ فِیۡہَا مَا یَشَآءُوۡنَ خٰلِدِیۡنَ ؕ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعۡدًا مَّسۡـُٔوۡلًا ﴿۱۶﴾
ان کے لیے اس میں جو چاہیں گے ہوگا، ہمیشہ رہنے والے، یہ تیرے رب کے ذمے ہوچکا، ایسا وعدہ جو قابل طلب ہے۔ En
وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے
En
وه جو چاہیں گے ان کے لئے وہاں موجود ہوگا، ہمیشہ رہنے والے۔ یہ تو آپ کے رب کے ذمے وعده ہے جو قابل طلب ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16-1یعنی ایسا وعدہ، جو یقینا پورا ہو کر رہے گا، جیسے قرض کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے اپنے ذمے یہ وعدہ واجب کرلیا ہے جس کا اہل ایمان اس سے مطالبہ کرسکتے ہیں۔ یہ محض اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کے لئے اس حسن جزا کو اپنے لئے ضروری قرار دے لیا ہے۔