تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{مَا كُلُّ مَا يَتَمَنَّي الْمَرْءُ يُدْرِكُهُ
تَجْرِي الرِّيَاحُ بِمَا لَا تَشْتَهِي السُّفُنُ}
”ایسا نہیں کہ آدمی جو بھی تمنا کرے اسے حاصل ہی کر لے، کیونکہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلا کرتی ہیں۔“
سورۂ حٰمٓ السجدہ کی آیت(۳۱): «وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ» میں بھی اسی آیت کا مضمون بیان ہوا ہے۔
➋ یہاں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ جنتیوں کو جب ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے تو اگر وہ نبیوں کے مرتبے کی خواہش کریں تو کیا انھیں وہ بھی حاصل ہو جائے گا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دلوں میں ایسی تمنا پیدا ہی نہیں ہو گی، وہ سب اپنے اپنے شغل ہی میں خوش ہوں گے اور سب حسد اور تنافس سے پاک اپنی حالت پر خوش ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ }» [یٰسٓ: ۵۵] ”بے شک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔“ اور جنت میں درجوں کا تفاوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَ وْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ] [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ …: ۳۲۵۶] ”اہلِ جنت اپنے اوپر کے بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ نہایت چمک دار تارے کو دیکھتے ہیں، جو مشرق یا مغرب کے دور افق میں ہوتا ہے، ان کی ایک دوسرے کے درمیان درجوں کی برتری کی وجہ سے۔“
➌ { كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ یہ وعدہ اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے پورا کرنے کی دعا کی جائے، یا یہ ایسا وعدہ ہے جو مانگنے پر یقینا پورا کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے {” اُولُوا الْاَلْبَابِ “} (مومنوں) کی دعا ذکر فرمائی ہے، جو وہ کیا کرتے ہیں: «{ رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ }» [آل عمران: ۱۹۴] ”اے ہمارے رب! اور ہمیں عطا فرما جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔“ طبری نے بعض اہل عربیت سے {” وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا “} کا معنی {” وَعْدًا وَاجِبًا “} نقل فرمایا ہے، کیونکہ جس چیز کا سوال یا مطالبہ ہو سکتا ہو وہ واجب ہوتی ہے، خواہ مطالبہ نہ ہی کیا جائے، مثلاً قرض، جیسا کہ عرب کہتے ہیں: {” لَأُعْطِيَنَّكَ أَلْفًا وَّعْدًا مَسْؤلًا“} ”میں تمھیں ایک ہزار دوں گا، یہ مسؤل وعدہ ہے۔“ یعنی تمھارے لیے واجب ہے، تم اس کا سوال اور مطالبہ کر سکتے ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے: بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بچتے رہے، اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں، ابدی لذتیں، دائمی مسرتیں ان کے لیے موجود ہیں۔ عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پرتکلف لباس، بہتر سے بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لیے مہیا ہیں، جہاں تک کسی کی نگاہیں تو کہاں خیالات بھی نہیں پہنچ سکتے۔ نہ ان راحتوں کے بیانات کسی کان میں پہنچے۔ پھر ان کے کم ہو جانے، ختم ہو جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں نہ، وہ نعمتیں کم ہوں۔ لازوال، بہترین زندگی، ابدی رحمت، دوامی کی دولت انہیں مل گئی اور ان کی ہو گئی۔
یہ رب کا احسان و انعام ہے جو ان پر ہوا اور جس کے یہ مستحق تھے۔ رب کا وعدہ ہے جو اس نے اپنے ذمے کر لیا ہے جو ہو کر رہنے والا ہے جس کا عدم ایفا ناممکن ہے، جس کا غلط ہونا محال ہے۔ اس سے اس کے وعدے کے پورا کرنے کا سوال کرو، اس سے جنت طلب کرو، اسے اس کا وعدہ یاد دلاؤ۔ یہ بھی اس کا فضل ہے کہ اس کے فرشتے اس سے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ رب العالمین مومن بندوں سے جو تیرا وعدہ ہے، اسے پورا کر اور انہیں جنت عدن میں لے جا۔ قیامت کے دن مومن کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! تیرے وعدے کو سامنے رکھ کر ہم عمل کرتے رہے، آج تو اپنا وعدہ پورا کر۔
یہاں پہلے دوزخیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد جنتیوں کا ذکر ہوا۔ سورۃ الصافات میں جنتیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد دوزخیوں کا ذکر ہوا کہ ’ کیا یہی بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟ جسے ہم نے ظالموں کے لیے فتنہ بنا رکھا ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے سانپ کے پھن۔ دوزخی اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔ پھر کھولتا ہوا گرم پانی پیپ وغیرہ سے ملا جلا پینے کو دیا جائے گا۔ پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ انہوں نے اپنے پاپ دادوں کو گمراہ پایا اور بےتحاشا ان کے پیچھے لپکنا شروع کر دیا۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:62-70]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لهم فيها ما يشاؤون}؛ أي: يطلبون وتتعلَّق به أمانيهم ومشيئتهم؛ من المطاعم، والمشارب اللذيذة، والملابس الفاخرة، والنساء الجميلات، والقصور العاليات، والجنَّات والحدائق المرجحنَّة (1)، والفواكة التي تسر ناظريها وآكليها من حسنها وتنوُّعها وكثرة أصنافها، والأنهار التي تجري في رياض الجنَّة وبساتينها حيث شاؤوا يصرِّفونها ويفجِّرونها أنهاراً من ماءٍ غير آسنٍ، وأنهارٌ من لبن لم يتغيَّر طعمُه، وأنهارٌ من خمر لذَّةٍ للشاربين، وأنهارٌ من عسل مصفًّى وروائح طيِّبة، ومساكن مزخرفة، وأصواتٌ شجيَّة تأخُذُ من حسنها بالقلوب، ومزاورة الإخوان، والتمتُّع بلقاء الأحباب، وأعلى من ذلك كلِّه التمتُّع بالنظر إلى وجه الربِّ الرحيم، وسماع كلامِهِ والحظوة بقربه والسعادة برضاه، والأمن من سَخَطه واستمرار هذا النعيم ودوامه وزيادته على ممرِّ الأوقات وتعاقب الآنات. {كان}: دخولُها والوصولُ إليها {على ربِّك وعداً مسؤولاً}: يسأله إيَّاها عبادُه المتَّقون بلسان حالهم ولسان مقالهم.
فأيُّ الدارين المذكورتين خيرٌ وأولى بالإيثارِ؟! وأيُّ العاملين عُمَّال دار الشقاء أو عمال دار السعادة أولى بالفضل والعقل والفخر يا أولي الألباب؟! لقد وَضَح الحقُّ واستنار السبيل، فلم يبق للمفرِّط عذرٌ في تركه الدليل؛ فنرجوك يا من قضيتَ على أقوام بالشقاءِ وأقوام بالسعادةِ أن تَجْعَلَنا ممَّنْ كتبتَ لهم الحسنى وزيادة، ونستغيثُ بك اللهمَّ من حالة الأشقياء ونسألك المعافاة منها.