ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَہۡوَآءَہُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ بَلۡ اَتَیۡنٰہُمۡ بِذِکۡرِہِمۡ فَہُمۡ عَنۡ ذِکۡرِہِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾
اور اگر حق ان کی خواہشوں کے پیچھے چلے تو یقینا سب آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے، بگڑ جائیں، بلکہ ہم ان کے پاس ان کی نصیحت لے کر آئے ہیں تو وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں۔ En
اور خدائے (برحق) ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں۔ بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور وہ اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں
En
اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیرو ہوجائے تو زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز درہم برہم ہو جائے۔ حق تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن وه اپنی نصیحت سے منھ موڑنے والے ہیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

71-1حق سے مراد دین اور شریعت ہے۔ یعنی اگر دین ان کی خواہشات کے مطابق اترے تو ظاہر بات ہے کہ زمین و آسمان کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ مثلاً وہ چاہتے ہیں کہ ایک معبود کے بجائے متعدد معبود ہوں، اگر فی الواقع ایسا ہو، تو کیا نظام کائنات ٹھیک رہ سکتے ہیں۔