ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ طه (20) — آیت 129

وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی ﴿۱۲۹﴾ؕ
اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی اور ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو وہی (پہلے لوگوں والا عذاب) لازم ہوجاتا ۔ En
اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا
En
اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود اگر ان پر اب تک عذاب نہیں آیا تو یہ سمجھیں کہ آئندہ بھی نہیں آئے گا بلکہ ابھی ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملی ہوئی ہے، جیسا کہ وہ ہر قوم کو دیتا ہے۔ مہلت عمل ختم ہوجانے کے بعد ان کو عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔