ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ طه (20) — آیت 102

یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ وَ نَحۡشُرُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ زُرۡقًا ﴿۱۰۲﴾ۚۖ
جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے۔ En
جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکھٹا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی
En
جس دن صور پھونکا جائے گا اور گناه گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر ﻻئیں گے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 صور سے مراد وہ (نرسنگا) ہے، جس میں اسرافیل ؑ اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے تو قیامت برپا ہوجائے گی، حضرت اسرافیل ؑ کے پہلے پھونکنے سے سب پر موت طاری ہو جائیگی، اور دوسرے پھونکنے سے بحکم الٰہی سب زندہ اور میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے۔ آیت میں یہی دوسرا پھونکنا مراد ہے۔