ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الكهف (18) — آیت 102

اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا ﴿۱۰۲﴾
تو کیا جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو حمایتی بنا لیں گے۔ بے شک ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی تیار کر رکھا ہے۔ En
کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کارساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے
En
کیا کافر یہ خیال کیے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وه میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنا لیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 حسب، بمعنی ظن ہے اور عبادی (میرے بندوں) سے مراد ملائکہ، مسیح ؑ اور دیگر صالحین ہیں، جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح شیاطین و جنات ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے اور استفہام زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ یعنی غیر اللہ کے یہ پجاری کیا یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر اور میرے بندوں کی عبادت کر کے ان کی حمایت سے میرے عذاب سے بچ جائیں گے؟ یہ ناممکن ہے، ہم نے تو ان کافروں کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں جانے سے ان کو وہ بندے نہیں روک سکیں گے جن کی یہ عبادت کرتے اور ان کو اپنا حمایتی سمجھتے ہیں۔