ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 81

وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾
اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔ En
اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بےشک باطل نابود ہونے والا ہے
En
اور اعلان کردے کہ حق آچکا اور ناحق نابود ہوگیا۔ یقیناً باطل تھا بھی نابود ہونے واﻻ En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

81۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں تین سو ساٹھ بت تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ چھڑی کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ) 17۔ الاسراء:81)۔ اور (قُلْ جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ) 34۔ سبأء:49) پڑھتے جاتے (صحیح بخاری)